ابنا: شام کے صدر بشار اسد نے امریکہ اور مغربی ممالک کی طرف سے شام میں القاعدہ دہشت گردوں کی کھلی حمایت پر متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک کو القاعدہ کی حمایت کی سنگین قیمت ادا کرنا پڑےگی۔ انھوں نے کہا کہ سویت یونین کے خلاف امریکہ نے القاعدہ کی حمایت کرکے جہاد کو فروغ دیا تھا اور وہ نام نہاد جہاد آج تک چل رہا ہے۔صدر بشارالاسد نے سنہ 1980 میں امریکہ کی جانب سے افغان مجاہدین کو سویت یونین کے خلاف لڑائی میں دی جانے والی امداد کا ذکر کیا جو ان کے بقول دنیا میں نام نہاد جہاد کی بڑی وجہ بنی۔ صدر بشاراسد نے کہا کہ مغرب یہی کام اب شام، لیبیا اور دیگر جگہوں پر کر رہا ہے اور اسے اس کی بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ مغرب کو القاعدہ کی مالی مدد کرنے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کی سرپرستی میں شروع ہونے والا جہاد فساد بن گیا ہے۔ صدر بشار اسد نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ شام میں جنگ جاری ہے اور وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔انہوں نے کہا کہ صرف شامی باشندوں کو اس بات کا فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ اقتدار میں رہیں یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ بعض عرب ممالک امریکی اور اسرائیلی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر سعودی عرب اور قطر میں دم ہوتا تو آج تک فلسطین آزاد ہوجاتا ۔ صدر اسد نے کہا کہ فلسطین کو آزاد کرانے کے سلسلے میں سعودی عرب اور قطر سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور یہ دونوں ممالک مسئلہ فلسطین سے مسلمانوں کی توجہ ہٹا کر دوسرے مسائل میں الجھا دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب آج بھی ابو جہل اور ابو لہب کے نقش قدم پر چل کر صہیونی یہودیوں کی مدد کررہا ہے۔
.....
/169